حدیث نمبر: 3294
٣٢٩٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عُمير قال: صلى المغيرة بن شعبة الصبح فغلس (ونور) (١) حتى قلت: قد طلعت الشمس، أو لم تطلع، وصلى فيما بين ذلك، وكان مؤذنه ابن (النباح) (٢) ولم يكن له مؤذن غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے صبح کی نماز اندھیرے میں بھی پڑھائی اور روشنی میں بھی۔ یہاں تک کہ میں نے کہا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا سورج طلوع نہیں ہوا ! انہوں نے ان دونوں وقتوں کے درمیان بھی فجر کی نماز ادا کی ہے۔ ان کے مؤذن ابن النباح تھے، ان کے علاوہ ان کا کوئی مؤذن نہ تھا۔

حواشی
(١) في [أ]: زيادة (وصلى بهم في ما بين ذلك).
(٢) في [جـ، ك]: (نباح)، وفي [أ، ب، هـ]: (التياح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3294
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3294، ترقيم محمد عوامة 3280)