حدیث نمبر: 32907
٣٢٩٠٧ - حدثنا أبو داود عن (المستمر) (١) بن الريان قال: حضرت (جابر) (٢) بن زيد في المسجد الجامع، وقال له زرارة بن أوفى -وهو يومئذ على القضاء-: إنه (رفع) (٣) إلي غلام أعتق عبدًا (٤)، فأنكر ذلك الأولياء، (فرأيت) (٥) أن أرد ذلك، ثم يودي الغلام حتى يشب الغلام ويحب المال، فإن شاء أن يمضي أمضى، وإن شاء أن يرد رد.
مولانا محمد اویس سرور

مستمر بن ریّان سے روایت ہے فرمایا کہ میں جامع مسجد میں حضرت جابر بن زید کے پاس تھا جبکہ ان کو حضرت زرارہ بن اوفی نے جو اس وقت قاضی تھے فرمایا کہ میرے پاس ایک نابالغ بچے کا مقدمہ آیا ہے جس نے اپنے غلام کو آزاد کردیا تھا اور اولیاء نے اس کو ماننے سے انکار کردیا تھا، میری رائے یہ ہوئی کہ اس آزادی کو ردّ کر دوں پھر بعد میں لڑکا جب بالغ ہوجائے گا اور اس کے دل میں مال کی محبت آنے لگے گی اس وقت اگر وہ لڑکا غلام کی آزادی کو نافذ کرنا چاہے تو کرلے اور اگر آزادی سے دستبردار ہونا چاہے تو ہوجائے۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (المعتمر).
(٢) في [هـ]: (جعفر).
(٣) في [هـ]: (دفع).
(٤) في [م]: زيادة (له).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فأردت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32907، ترقيم محمد عوامة 31510)