مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
الرجل يوصي بالوصية ويقول: اشهدوا على ما فيها باب: اس آدمی کا بیان جو کوئی وصیت کرے اور کہے اس وصیت نامے کے اندر جو کچھ لکھا ہوا ہے تم لوگ اس کے گواہ ہو جائو!
٣٢٨٩٠ - حدثنا (عباد) (١) عن روح بن القاسم عن عبد اللَّه بن أبي بكر بن عمرو ابن حزم عن أبيه قال: كان غلام من غسان بالمدينة، وكان له ورثة بالشام، وكانت له عمة بالمدينة، فلما حضر أتت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له وقالت: أفيوصي قال (احتلم بعد) (٢)، قال: قلت: لا، (قال: فليوصِ) (٣) قال: فأوصى لها بنخل، فبعته أنا لها بثلاثين ألف درهم (٤).ابوبکر بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک نوجوان لڑکا مدینہ میں رہتا تھا جس کے ورثاء شام میں رہتے تھے اور اس کی ایک پھوپھی مدینہ منورہ میں تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس کی پھوپھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اور اس کی حالت کا ذکر کر کے پوچھا کہ کیا وہ لڑکا کوئی وصیت کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا وہ بالغ ہوگیا ہے ؟ کہتے ہیں میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : پھر وہ وصیت کرسکتا ہے، کہتے ہیں اس لڑکے نے اپنی پھوپھی کے لئے ایک نخلستان کی وصیت کی ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ نخلستان اس عورت کے لئے تیس ہزار درہم میں بیچا۔