حدیث نمبر: 32890
٣٢٨٩٠ - حدثنا (عباد) (١) عن روح بن القاسم عن عبد اللَّه بن أبي بكر بن عمرو ابن حزم عن أبيه قال: كان غلام من غسان بالمدينة، وكان له ورثة بالشام، وكانت له عمة بالمدينة، فلما حضر أتت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له وقالت: أفيوصي قال (احتلم بعد) (٢)، قال: قلت: لا، (قال: فليوصِ) (٣) قال: فأوصى لها بنخل، فبعته أنا لها بثلاثين ألف درهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابوبکر بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک نوجوان لڑکا مدینہ میں رہتا تھا جس کے ورثاء شام میں رہتے تھے اور اس کی ایک پھوپھی مدینہ منورہ میں تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس کی پھوپھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اور اس کی حالت کا ذکر کر کے پوچھا کہ کیا وہ لڑکا کوئی وصیت کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا وہ بالغ ہوگیا ہے ؟ کہتے ہیں میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : پھر وہ وصیت کرسکتا ہے، کہتے ہیں اس لڑکے نے اپنی پھوپھی کے لئے ایک نخلستان کی وصیت کی ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ نخلستان اس عورت کے لئے تیس ہزار درہم میں بیچا۔

حواشی
(١) في [هـ]:) معاذ)، وفي [ط]: بياض.
(٢) بياض في: [هـ] ثم: (اللَّه)، وفي [أ، ب]: (أختكم بعد).
(٣) في [هـ]: بياض.
(٤) منقطع؛ أبو بكر بن حزم لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32890، ترقيم محمد عوامة 31493)