مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
من قال: يرد على ذي القرابة باب: ان اسلاف کے فرمان جو فرماتے ہیں کہ رشتہ داروں میں وصیت کو نافذ کیا جائے
حدیث نمبر: 32823
٣٢٨٢٣ - حدثنا الضحاك عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: كان لا يرى الوصية (إلا) (١) لذوي الأرحام أهل الفقر، فإن أوصى بها لغيرهم (انتزعت) (٢) منهم فردت إليهم، فإن لم يكن فيهم فقراء فلأهل الفقر (ما) (٣) كانوا وإن (سمى) (٤) أهلها (الذين أوصى) (٥) لهم.مولانا محمد اویس سرور
ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ طاؤس حاجت مندوں ذوی الأرحام رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے لئے وصیت کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اور یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوئی ان کے علاوہ کسی کے لئے وصیت کرے تو ان سے مال لے کر ذوی الأرحام رشتہ داروں کو دلایا جائے گا، اور اگر ذوی الأرحام رشتہ داروں میں حاجت مند نہ ہوں تو وصیت کا مال فقراء میں تقسیم کیا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہوں، اگرچہ وصیت کرنے والے نے ان لوگوں کا نام بھی لیا ہو جن کے لئے وصیت ہے۔
حواشی
(١) سقطت من: [جـ].
(٢) في [ط، هـ]: (نزعت).
(٣) في [هـ]: (من).
(٤) سقط من: [ب]، وفي [هـ]: (بقي).
(٥) في [هـ]: (إلا من يوصى).