مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
رجل له دور فأوصى بثلثها أيجمع له في موضع أم لا؟ باب: اس آدمی کا بیان جس کے کچھ گھر ہوں، اور وہ ان کے ایک تہائی حصّے کی وصیت کرے ، کیا ان جگہوں کو ایک جگہ سے جمع کر کے وصیت میں دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 32793
٣٢٧٩٣ - حدثنا يعلى عن عبد الملك عن عطاء في رجل أوصى بثلث ماله وأشياء سوى ذلك، وترك دارًا (تكون) (١) ثلثها أيعطاها الوصى له بالثلث، قال: لا، ولكن يعطى بالحصة من المال والدار.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جس نے ایک تہائی مال اور اس کے علاوہ کچھ اشیاء کی وصیت کی ، اور ایک گھر چھوڑ کر مرا جو اس کے مال کا ایک تہائی ہوتا ہے، ان سے پوچھا گیا کیا جس آدمی کے لئے وصیت کی گئی ہے اسے وہ گھر ایک تہائی حصّے میں دیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس کو مال اور گھر دونوں کا ایک حصّہ دیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (يكون).