مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
رجل له دور فأوصى بثلثها أيجمع له في موضع أم لا؟ باب: اس آدمی کا بیان جس کے کچھ گھر ہوں، اور وہ ان کے ایک تہائی حصّے کی وصیت کرے ، کیا ان جگہوں کو ایک جگہ سے جمع کر کے وصیت میں دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 32792
٣٢٧٩٢ - (١) حدثنا حماد بن خالد عن عبد اللَّه بن جعفر عن سعد بن إبراهيم قال: سألت القاسم عن رجل كانت له مساكن فأوصى بثلث كل مسكن له، قال: (يخرج) (٢) حتى يكون في مسكن واحد.مولانا محمد اویس سرور
سعد بن ابراہم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا جس کے کچھ گھر تھے، پھر اس نے ہر گھر کے ایک تہائی کی وصیت کردی، آپ نے فرمایا : اس پورے حصّے کو ایک مکان سے نکال کردیا جائے گا۔
حواشی
(١) (حدثنا أبو بكر قال) زيادة في: [م].
(٢) (فخرج) في: [م].