حدیث نمبر: 32738
٣٢٧٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء قال: اجتمع عيدان في يوم (فقام) (١) الحجاج في العيد الأول (فقال) (٢): من شاء أن يجمع معنا فليجمع، ومن شاء أن ⦗١٦٦⦘ ينصرف فلينصرف ولا حرج، فقال أبو البختري وميسرة: ماله قاتله اللَّه، من أين سقط على هذا؟
مولانا محمد اویس سرور

عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دن میں دو عیدیں اکٹھی ہوگئیں ، چناچہ پہلی عید کی نماز کے وقت حجاج کھڑا ہوا اور کہنے لگا : جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے، اور جو شخص جانا چاہے چلا جائے کوئی حرج نہیں ، یہ سن کر ابو البختری اور میسرہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے اس پر یہ وحی کہاں سے آ پڑی۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (فمال).
(٢) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32738، ترقيم محمد عوامة 31349)