مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧٣٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: أخبرني غير واحد أن قاضيًا من قضاة أهل الشام أتى عمر فقال: يا أمير المؤمنين رأيت رؤيا أفظعتني، قال: وما رأيت؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان، والنجوم معهما نصفين، قال: فمع أيهما كنت؟ (قال) (١): كنت مع القمر على الشمس، فقال عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: ١٢]، فانطلق فواللَّه لا تعمل لي (عملًا) (٢) أبدًا (٣).عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھے ایک سے زیادہ آدمیوں نے خبر دی ہے کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے امیر المؤمنین ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے، آپ نے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سورج اور چاند کو لڑتے ہوئے دیکھا جن کی ماتحتی میں ستارے بھی دو فریق بنے ہوئے ہیں، آپ نے فرمایا تم کس فریق کے ساتھ تھے ؟ انہوں نے کہا میں چاند کے ساتھ تھا جو سورج پر حملہ آور ہو رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } ( اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ، پس رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) پھر فرمایا : چلے جاؤ ، خدا کی قسم ! آئندہ تم میرے لئے کوئی کام نہیں کرو گے : عطاء فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ مقتول ہوا۔