حدیث نمبر: 32724
٣٢٧٢٤ - حدثنا ابن فضيل عن سالم بن أبي حفصة عن منذر قال: كنت عند ابن الحنفية فرأيته (يتقلب) (١) على فراشه وينفخ، فقالت له امرأته: ما يكربك من أمر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: واللَّه ما بي عدو اللَّه هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه غدا، قال: ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم أنت تعلم أني كنت أعلم مما علمتني أنه يخرج منها قتيلًا يطاف برأسه في الأمصار أو في الأسواق.
مولانا محمد اویس سرور

منذر فرماتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا کہ میں نے ان کو دیکھا کہ بستر پر بےچینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں اور لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ آپ کو آپ کے اس دشمن عبد اللہ بن زبیر کی کون سی بات نے بےچین کر رکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ ! مجھے یہ پریشانی نہیں کہ ابن زبیر اللہ کا دشمن ہے ، لیکن مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کے حرم میں کیا ہوگا ! کہتے ہیں کہ پھر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور یہ کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں جانتا تھا اس علم سے جو آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے کہ وہ اس حرم سے قتل ہو کر نکلیں گے اور ان کے سر کو شہروں یا بازاروں میں پھرایا جائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، م]: (ينقلب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32724، ترقيم محمد عوامة 31336)