مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧٠٨ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبيه قال أخبرني أبي أن الحجاج حين قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا: شر الأمة، فقال: إني رأيت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع: فجعلت تنفر فقال لمولاها: ويحك خذ بلجامها فأدنها، قال: فرأيته أدناها فوقف عبد اللَّه بن عمر وهو يقول: رحمك اللَّه، إن كنت ⦗١٥٦⦘ (لصوامًا) (١) (قوامًا) (٢)، ولقد أفلحت أمة أنت (٣) شرها (٤).خلیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حجاج نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا تو ان کو منیٰ لے گیا اور ان کو وادی کے درمیان ایک ٹیلہ کے قریب سولی دے دی، پھر لوگوں سے کہا کہ اس آدمی کو دیکھو یہ امت کا بد ترین آدمی ہے، راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک خچر پر آتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنے خچّر کو شہتیر سے قریب کرنے لگے اور خچر بدکنے لگا، حضرت نے اپنے غلام سے فرمایا اس کی لگام پکڑ کر شہتیر کے قریب کرو، کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ انہوں نے خچر کو شہتیر کے قریب کردیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں رکے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ، بیشک تو بہت روزے رکھنے والا اور بہت نماز کے لئے قیام کرنے والا تھا، اور یقینا وہ امت فلاح پا گئی جس کا بدترین آدمی تجھ جیسا ہو۔