حدیث نمبر: 32706
٣٢٧٠٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال: أتيت أسماء بعد قتل عبد اللَّه بن الزبير فقالت: بلغني أنهم (صلبوا) (١) عبد اللَّه منكسا وعلقوا معه الهرة، واللَّه لوددت أني لا أموت حتى يدفع إليَّ فأغسله وأحنطه وأكفنه ثم أدفنه، (فما لبثوا) (٢) أن جاءه كتاب (عبد الملك) (٣) أن يدفع إلى أهله، قال: فأتيت به أسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، وہ فرمانے لگیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ لوگوں نے عبد اللہ کو الٹا کر کے سولی چڑھایا ہے، اور اس کے ساتھ ایک بلی کو بھی لٹکایا ہے، بخدا میں چاہتی ہوں کہ میری موت سے پہلے مجھے اس کی نعش دی جائے تو میں اس کو غسل دوں خوشبو لگاؤں، کفن دوں اور دفن کر دوں، کچھ ہی دیر بعد عبد الملک کا خط آگیا کہ ان کی نعش کو ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے، چناچہ ان کو حضرت اسماء کے پاس لایا گیا ، انہوں نے ان کو غسل دیا ، خوشبو لگائی ، کفن دیا اور دفنا دیا۔

حواشی
(١) ورد في [ط]: (هلكوا).
(٢) ورد في [أ، ب، ط]: (فاكتبوا).
(٣) ورد في [ط]: (عبد اللَّه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32706، ترقيم محمد عوامة 31318)