مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من رخص في الوضوء بسؤر الهر باب: ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 327
٣٢٧ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرنا مالك بن أنس قال أخبرني إسحاق ابن عبد اللَّه بن أبي طلحة الأنصاري عن (حميدة) (١) بنت عبيد بن رافع عن (كبشة) (٢) بنت كعب -وكانت تحت بعمق ولد أبي قتادة- أنها صبت لأبي قتادة ماء يتوضأ به، فجاءت هرة (تشرب) (٣)، فأصغى لها الإناء، فجعلت انظر! فقال (يا ⦗٧١⦘ بنية) (٤) أخي، أتعجبين؟ قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ليست بنجس؛ هي من الطوافين عليكم، أو من الطوافات" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ کی بہو حضرت کبشہ بنت کعب فرماتی ہیں کہ وہ حضرت ابو قتادہ کے لئے وضو کا پانی ڈال رہی تھیں کہ اتنے میں ایک بلی آئی وہ پیاسی تھی، چناچہ حضرت ابو قتادہ نے برتن اس بلی کے لئے جھکا دیا۔ میں اس منظر کو تعجب سے دیکھنے لگی تو انہوں نے فرمایا ” بیٹی تعجب کیوں کر رہی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے گھروں میں چکر لگانے والا جانور ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (زوجته).
(٢) في حاشية [خ]: (خالتها).
(٣) في [أ، جـ، خ، د، هـ]: (فشربت).
(٤) في [س، ك]: (يا ابنة).