حدیث نمبر: 32681
٣٢٦٨١ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الواحد بن أيمن قال: قلت لسعيد بن جبير: إنك قادم على الحجاج فانظر ماذا (تقول) (١)، لا تقل ما يستحل به دمك، قال: إنما يسألني كافر أنا أو مؤمن، فلم أكن لأشهد على نفسي بالكفر، وأنا لا (أدري) (٢) أنجو منه أم لا.
مولانا محمد اویس سرور

عبد الواحد بن ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ آپ حجاج کے پاس جا رہے ہیں تو ذرا دھیان سے بات کرنا، کہیں ایسی بات نہ کہہ بیٹھنا جس سے وہ تمہارے خون کو مباح سمجھ کر قتل کر ڈالے ، انہوں نے فرمایا : وہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم کافر ہو یا مؤمن ؟ میں تو اپنی ذات پر کفر کی گواہی نہیں دے سکتا، اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں کہ میں اس کے شر سے نجات پاؤں گا یا نہیں۔

حواشی
(١) ورد في [ط]: (تقل).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (ندري).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32681
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32681، ترقيم محمد عوامة 31293)