حدیث نمبر: 3268
٣٢٦٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: أخبرني المهاجر قال: قرأت كتاب عمر إلى أبي موسى فيه مواقيت (الصلاة) (١)، فلما انتهى إلى الفجر، أو قال: إلى الغداة قال: قم فيها بسواد، أو بغلس، وأطل القراءة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کا وہ خط دیکھا ہے جو انہوں نے حضرت ابو موسیٰ کو لکھا تھا اور اس میں نمازوں کے اوقات کا تذکرہ کیا تھا۔ جب فجر کی نماز کا موقع آیا تو اس میں لکھا تھا کہ اسے اندھیرے میں پڑھو اور قراءت کو لمبا کرو۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (الصلوات).
(٢) مجهول؛ لحال المهاجر، أخرجه الطحاوي ١/ ١٨١، والحارث كما في البغية (١٠٨)، وعبد الرزاق (٢٠٣٧)، والبيهقي ١/ ٣٧٠، وإسحاق كما في المطالب (٢٥١).