حدیث نمبر: 32668
٣٢٦٦٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد قال: كتب أصحاب محمد ﷺ عيب عثمان، فقالوا: من يذهب به إليه؟ فقال عمار: أنا، فذهب به إليه، فلما قرأه قال: أرغم اللَّه (بأنفك) (١)، فقال عمار: وبأنف أبي بكر وعمر، قال: فقام (ووطئه) (٢) حتى غشي عليه، قال: وكان عليه (تبان) (٣) قال: ثم بعث (إليه) (٤) الزبير وطلحة، فقالا له: اختر إحدى ثلاث: إما أن تعفو، وإما أن تأخذ (الأرش) (٥)، وإما أن تقتص، ⦗١٤٣⦘ قال: فقال عمار: لا أقبل منهن شيئًا حتى ألقى اللَّه (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم بن ابی الجعد روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی عیب لکھا، اس کے بعد وہ پوچھنے لگے یہ تحریر ان کے پاس کون لے کر جائے گا ؟ حضرت عمار نے فرمایا میں لے کر جاؤں گا، وہ لے کر گئے، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر پڑھی تو فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی ناک خاک آلود کرے، حضرت عمار نے اس پر فرمایا : تو پھر حضرت ابوبکر و عمر کی ناک کو بھی، کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور ان کو گرا لیا اور پاؤں سے روندنے لگے یہاں تک کہ وہ بےہوش ہوگئے، اس وقت انہوں نے جان گیا پہن رکھا تھا، پھر حضرت عثمان نے ان کے پاس حضرت زبیر اور طلحہ کو بھیجا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تین باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو ، یا تو معاف کردو یا تاوان لے لو یا بدلہ لے لو، حضرت عمار نے فرمایا میں ان میں سے کچھ قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن آدم کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے حسن بن صالح کے سامنے یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان پر ان کے اس فعل سے زیادہ کوئی الزام نہیں۔

حواشی
(١) في [ط]: (فأنفك).
(٢) في [جـ]: (فوطئه).
(٣) في [هـ]: (ــبان) بدون نقاط.
(٤) في [ط، هـ]: (إلى).
(٥) في [ط]: (الإرث).
(٦) منقطع؛ سالم لم يدرك ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32668
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32668، ترقيم محمد عوامة 31281)