حدیث نمبر: 32656
٣٢٦٥٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن ناسا كانوا عند فسطاط عائشة، فمر عثمان (أرى ذلك) (١) بمكة، قال أبو سعيد: فما بقي أحد منهم إلا لعنه أو سبه غيري، وكان فيهم رجل من أهل الكوفة، فكان عثمان على الكوفي (٢) أجرأ منه على غيره، فقال: يا كوفي (أتشتمني) (٣) -أقدم المدينة- كأنه يتهدده، قال: فقيل له: عليك بطلحة، قال: فانطلق معه طلحة حتى أتى عثمان قال عثمان: واللَّه لأجلدنك مائة، قال طلحة: واللَّه لا تجلده مائة إلا أن يكون زانيًا، (فقال) (٤): لأحرمنك عطاءك، قال: فقال طلحة: إن اللَّه سيرزقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ بہت سے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے پاس تھے کہ ادھر سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، میرا خیال ہے کہ یہ مکہ کا واقعہ ہے، ابو سعید فرماتے ہیں کہ میرے علاوہ ان تمام آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کی اور ان کو برا بھلا کہا، ان میں ایک آدمی اہل کوفہ میں سے تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسروں کے مقابلے میں اس کوفی پر زیادہ جرأت دکھائی اور کہا اے کوفہ والے ! کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو ؟ ذرا مدینہ آؤ، یہ بات آپ نے دھمکی کے انداز میں فرمائی، وہ آدمی مدینہ آیا ، اس کو کہا گیا کہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو، کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا میں تمہیں سو کوڑے لگاؤں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کو صرف زانی ہونے کی صورت میں ہی سو کوڑے لگا سکتے ہو، آپ نے اس سے فرمایا میں تجھ کو تیرے وظیفے سے محروم کروں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو روزی دے دیں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (إذا ذلك)، وفي [هـ]: (إذ ذاك)، وفي [جـ، م]: (إذى ذلك).
(٢) في [ط]: زيادة (في).
(٣) في [هـ]: (أشتهي)، وفي [أ]: (أتسبني).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك، م]: (وقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32656
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32656، ترقيم محمد عوامة 31270)