مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٥٤ - (١) حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه قال: أخبرنا أبو نضرة أن ربيعة (كلمت) (٢) (طلحة) (٣) في مسجد بني سلمة (فقالت) (٤): كنا في نحر العدو حتى (جاءتنا) (٥) بيعتك هذا الرجل ثم أنت الآن تقاتله، أو كما قالوا، فقال: إني أدخلت (الحش) (٦) ووضع على (عنقي) (٧) (اللج) (٨) فقيل: بايع وإلا (قتلناك) (٩)، قال: فبايعت وعرفت أنها بيعة ضلالة (١٠).ابو نضرہ روایت کرتے ہیں کہ ربیعہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ سے مسجدِ بنو سلمہ میں بات کی، اور کہا کہ ہم دشمن سے مقابلہ کر رہے تھے جب ہمیں آپ کی اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی خبر پہنچی، پھر اب آپ ان سے قتال کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایک تنگ جگہ میں داخل کر کے میری گردن پر تلوار رکھ دی گئی اور مجھ سے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بیعت کی کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے کہا کہ اہل عراق کے ایک منافق جبلہ بن حکیم نے حضرت زبیر سے کہا کہ آپ نے تو بیعت کرلی تھی ؟ حضرت زبیر نے جواب دیا کہ میری گردن پر تلوار رکھ کر مجھے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے، اس لیے میں نے بیعت کرلی۔