مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32625
٣٢٦٢٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم قال: ما رأيت أبا وائل (سب) (١) دابة قط إلا الحجاج مرة واحدة، فإنه ذكر بعض صنيعه فقال: اللهم أطعم الحجاج (طعامًا) (٢) من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع، قال: ثم تداركها بعد فقال: إن كان ذلك أب إليك، فقلت: أتشك في الحجاج؟ قال: و (نعد) (٣) ذلك ذنبا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو وائل رحمہ اللہ کو کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے زمین پر چلنے والے کسی ذی روح کو برا بھلا کہا ہو سوائے حجاج کے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس کی بدعملیوں کا ذکر کر کے فرمایا اے اللہ ! حجاج کو ضریع نامی جھاڑ میں سے کھلا ایسا کھانا جو نہ فربہ کرے اور نہ بھوک مٹائے، فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے بطور تدارک کے فرمایا : اگر آپ اس بات کو پسند فرمائیں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو حجاج کے بارے میں ابھی تک شک ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات کے اضافے کو گناہ سمجھتے ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (ساب).
(٢) زياد من [ك، م]: (طعامًا).
(٣) في [م]: (تعد).