٣٢٥٩ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثني خارجة بن عبد اللَّه بن (سليمان) (٢) بن زيد بن ثابت قال: حدثني حسين بن بشير بن (سلام) (٣) عن أبيه (قال) (٤) دخلت أنا ومحمد بن علي أو رجل من آل علي على جابر بن عبد اللَّه فقلنا له: حدثنا عن كيف كانت الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ؟ قال: صلى رسول اللَّه ﷺ الظهر حين كان الظل مثل الشراك، ثم صلى بنا العصر حين كان الظل مثله ومثل الشراك، ثم صلى بنا المغرب حين غابت الشمس، ثم صلى بنا العشاء حين غاب الشفق، ثم صلى بنا الفجر حين طلع الفجر، ثم صلى بنا من الغد الظهر حين كان (ظل) (٥) كل شيء مثله، ثم صلى بنا العصرحين كان ظل كل شيء مثليه قدر ما (يسير) (٦) (الراكب) (٧) إلى ذي الحليفة (العنق) (٨)، ثم صلى بنا الغرب حين (غابت) (٩) الشمس، ثم صلى بنا العشاء حين ذهب ثلث الليل، ثم صلى بنا الفجر فأسفر، فقلنا له: كيف (نصلي) (١٠) مع الحجاج وهو يؤخر؟ فقال: ما صلى للوقت فصلوا معه فإذا أخر (فصلوها) (١١) لوقتها واجعلوها معه نافلة، (وحديثي) (١٢) هذا ⦗١٩٨⦘ عندكم (أمانة) (١٣) فإذا مت فإن استطاع الحجاج أن ينبشني (فلينبشني) (١٤) (١٥).حضرت بشیر بن سلمان کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی رضی اللہ عنہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز سکھادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت ظہر کی نماز پڑھی جب ہر چیز کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب فجر طلوع ہوگئی۔ پھر اگلے دن ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ یہ نماز آپ نے ہمیں اتنی دیر پہلے پڑھائی جس میں ایک سوار مغرب کی نماز تک تیز رفتار کے ساتھ مقام ذو الحلیفہ تک پہنچ جائے۔ پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر گیا۔ پھر ہمیں روشنی میں فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ہم حجاج بن یوسف کے ساتھ کیسے نماز پڑھیں حالانکہ وہ تاخیر سے نماز پڑھتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جو نماز وہ وقت پر پڑھے اس کے ساتھ پڑھ لو اور جو نماز وہ دیر سے پڑھے، اسے تم وقت میں پڑھو اور اس کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجاؤ۔ اور میری یہ بات تمہارے پاس امانت ہے اگر میں مر بھی گیا اور حجاج کو اتنی قدرت ہوئی کہ وہ میری قبر کو اکھاڑے تو وہ ضرور اکھاڑے گا۔