مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٥٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: قال زياد: ما غلبني أمير المؤمنين بشيء من السياسة إلا بباب واحد، استعملت فلانا (فكسر) (٢) خراجه فخشي أن أعاقبه، ففر (إلى) (٣) أمير المؤمنين (فكتبت) (٤) إليه: أن هذا أدب سوء لمن (قبلي) (٥)، فكتب إليَّ: أنه ليس ينبغي لي و (٦) لك أن (نسوس) (٧) الناس سياسة واحدة، أن نلين جميعًا (فيمرج) (٨) الناس في المعصية، ولا أن (نشتدَّ) (٩) جميعًا فنحمل الناس على المهالك، ولكن تكون للشدة (والفظاظة) (١٠) (والغلظة) (١١) وأكون (أنا) (١٢) (اللين) (١٣) والرأفة والرحمة (١٤).حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد نے کہا کہ امیر المؤمنین سیاست کے کسی باب میں مجھ پر غالب نہیں ہوئے سوائے ایک باب کے، میں نے ایک آدمی کو ایک علاقے کا عامل بنایا اس نے اس کی آمدنی کم کردی، اس کو میری سرزنش کا خوف ہوا تو وہ امیر المؤمنین کی طرف بھاگا، میں نے ان کی طرف لکھا کہ یہ کام پہلے لوگوں کے طرز عمل کے خلاف ہے ، انہوں نے میری طرف لکھا کہ میرے اور تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم لوگوں سے ایک جیسی سیاست روا رکھیں، اگر ہم سب کے لئے نرم پڑجائیں گے تو سب گناہوں میں پڑجائیں گے، اور اگر ہم سب کے لئے سخت طبیعت ہوجائیں گے تو یہ ہلاکت کے راستوں پر لوگوں کو چلانا ہوگا، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم سختی و درشتی اور سخت طبعی کے لئے مناسب ہو اور میں نرمی ، محبت اور رحمت کے لیے مناسب ہوں۔