مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٥٦٣ - حدثنا (١) حسين بن علي عن مجمع قال: دخل عبد الرحمن بن أبي ليلى على الحجاج فقال لجلسائه: إذا أردتم أن تنظروا إلى رجل يسب أمير المؤمنين عثمان فهذا عندكم -يعني عبد الرحمن (بن أبي ليلى قال) (٢): فقال (عبد الرحمن) (٣): معاذ اللَّه أيها الأمير أن أكون أسب عثمان، إنه ليحجزني عن ذلك (٤) آيات في كتاب اللَّه، قال اللَّه: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ قال: فكان عثمان منهم، قال: ثم قال: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ فكان أبي منهم، ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر: ٨، ٩، ١٠]، فكنت منهم، قال: صدقت.حضرت مجمع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حجّاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دیتا ہے تو یہ عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو، حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اے امیر ! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہوں، مجھے اس بات سے کتاب اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ } (ان ہجرت کرنے والے فقراء کے لیے جن کو ان کے شہروں اور اموال سے بےدخل کردیا گیا، وہ تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضاء ، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں سے تھے، پھر آپ نے پڑھا { وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ( اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں) میرے والد ان لوگوں میں سے تھے۔ { وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } (اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لائے) میں ان لوگوں میں سے ہوں، حجاج نے کہا : آپ نے سچ فرمایا۔