حدیث نمبر: 32554
٣٢٥٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة بن أشيم: رأيت في النوم كأني في رهط، (وكان رجلًا) (٢) خلفي معه السيف شاهره، قال: كلما أتى على أحد منا ضراب رأسه فوقع، ثم يقعد فيعود كما كان، قال: فجعلت أنظر (متى) (٣) يأتي علي فيصنع بي (ذاك) (٤)، قال: فأتى علي فضرب رأسي فوقع، فكأني أنظر إلى رأسي حين أخذته (أنفض) (٥) عن (شفتي) (٦) التواب، ثم أخذته فأعدته كما كان.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید بن ھلال صلہ بن أشیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جماعت کے درمیان ہوں اور میرے پیچھے ایک آدمی تلوار سونتے کھڑا ہے، جب بھی وہ ہم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اس کا سر قلم کردیتا ہے تو وہ سر گِر جاتا ہے، پھر وہ مقتول بیٹھ جاتا ہے اور پہلے کی طرح دوبارہ درست ہوجاتا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں انتظار کرنے لگا کہ میرے پاس کب آتا ہے اور میرے ساتھ کیا کرتا ہے ؟ چناچہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سر پر مارا تو میرا سر گرپڑا، گویا کہ میں اب بھی اپنے سر کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنا سر پکڑا اور میں اپنے ہونٹوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا، پھر میں نے اپنا سر پکڑ کر پہلے کی طرح دوبارہ اس کی جگہ رکھ کر درست کرلیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (وكان رجل)
(٣) في [هـ]: (حين)، وفي [ط]: (حتى).
(٤) في [ك]: (ذلك).
(٥) في [ط]: (أنفد).
(٦) في [ط]: (شعبي)، وفي [هـ]: (شعري).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32554
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32554، ترقيم محمد عوامة 31171)