مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما حفظت فيمن عبر من الفقهاء باب: وہ روایات جو مجھے فقہاء کے خوابوں کی تعبیر دینے کے بارے میں یاد ہیں
٣٢٥٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة بن أشيم: رأيت في النوم كأني في رهط، (وكان رجلًا) (٢) خلفي معه السيف شاهره، قال: كلما أتى على أحد منا ضراب رأسه فوقع، ثم يقعد فيعود كما كان، قال: فجعلت أنظر (متى) (٣) يأتي علي فيصنع بي (ذاك) (٤)، قال: فأتى علي فضرب رأسي فوقع، فكأني أنظر إلى رأسي حين أخذته (أنفض) (٥) عن (شفتي) (٦) التواب، ثم أخذته فأعدته كما كان.حضرت حمید بن ھلال صلہ بن أشیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جماعت کے درمیان ہوں اور میرے پیچھے ایک آدمی تلوار سونتے کھڑا ہے، جب بھی وہ ہم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اس کا سر قلم کردیتا ہے تو وہ سر گِر جاتا ہے، پھر وہ مقتول بیٹھ جاتا ہے اور پہلے کی طرح دوبارہ درست ہوجاتا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں انتظار کرنے لگا کہ میرے پاس کب آتا ہے اور میرے ساتھ کیا کرتا ہے ؟ چناچہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سر پر مارا تو میرا سر گرپڑا، گویا کہ میں اب بھی اپنے سر کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنا سر پکڑا اور میں اپنے ہونٹوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا، پھر میں نے اپنا سر پکڑ کر پہلے کی طرح دوبارہ اس کی جگہ رکھ کر درست کرلیا۔