٣٢٥٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرني ثابت عن أنس بن مالك أن أبا موسى الأشعري أو أنسا قال: رأيت في المنام كأني أخذت (جَوادّ) (١) كثيرة فسلكتها حتى انتهيت إلى جبل، فإذا رسول اللَّه ﷺ فوق الجبل، وأبو بكر إلى جنبه وجعل يومئ بيده إلى عمر فقلت: إنا للَّه وإنا إليه راجعون، مات واللَّه عمر فقلت: ألا تكتب به إلى عمر (فقال) (٢): ما كنت (أكتب) (٣) أنعي إلى عمر نفسه (٤).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یا خود حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے راستوں پر چلا یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچا، میں نے دیکھا کہ پہاڑ کے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے پہلو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، میں نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، واللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو فوت ہوگئے، میں نے کہا کیا آپ یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لکھ کر نہیں بھیج دیتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو انہی کی وفات کی خبر نہیں سناتا۔