٣٢٣٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن ثعلبة عن أبي قلابة (قال) (١): حدثني الرسول الذي (سأل) (٢) عبد اللَّه بن مسعود (قال) (٣): (أسألك) (٤) باللَّه أتعلم أن الناس كانوا (في) (٥) عهد رسول اللَّه ﷺ على ثلاثة أصناف: مؤمن السريرة (و) (٦) مؤمن العلانية، وكافر السريرة (و) (٧) كافر العلانية، ومؤمن العلانية كافر ⦗١٩⦘ السريرة، قال: فقال عبد اللَّه: اللهم نعم، قال: فأنشدك باللَّه من أيهم كنت؟ (قال) (٨): فقال: اللهم (٩) مؤمن السريرة مؤمن العلانية، أنا مؤمن (١٠).حضرت ثعلبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : مجھے بیان کیا اس قاصد نے جس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں سوال کیا تھا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے تھے : وہ جو پوشیدہ اور ظاہری طور پر مومن ہو اور وہ جو پوشیدہ اور ظاہری طور پر کافر ہو اور وہ جو ظاہری طور پر مومن ہو اور پوشیدہ طور پر کافر ہو۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایسا یقینا تھا۔ اس نے کہا : پس میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ ان تینوں قسم میں سے کون تھے : راوی کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا ظاہری اور پوشیدہ طور پر مومن تھا۔ میں مومن تھا۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں حضرت عبد اللہ بن معقل رحمہ اللہ سے ملا تو میں نے عرض کیا : یقینا نیکوکاروں میں سے چند لوگ میرے یوں کہنے پر عیب لگاتے ہیں۔ میں مومن ہوں، تو حضرت عبد اللہ بن معقل رحمہ اللہ نے فرمایا : تحقیق تو ناکام و نامراد ہوا اگر تو مومن نہ ہو۔