حدیث نمبر: 32305
٣٢٣٠٥ - (حدثنا معاوية بن هشام) (١) (قال: حدثنا سفيان عن (جبلة)) (٢) (٣) ابن سحيم عن عامر بن مطر قال: كنت مع حذيفة فقال: (كيف) (٤) أنت يا عامر بن مطر إذا أخذ الناس طريقًا، والقرآن طريقًا، مع أيهما تكون؟ فقلت: مع القرآن أحيا معه (و) (٥) أموت، قال: فأنت إذن (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر بن مطر فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو آپ نے فرمایا : اے عامر بن مطر تیرا کیا حال ہوگا جب لوگ ایک راستہ بنالیں گے اور قرآن کا راستہ الگ ہوگا ؟ تو ان دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگا ؟ پس میں نے کہا : قرآن کے ساتھ ہی میں زندہ رہوں گا اور یا اس کے ساتھ ہی مروں گا۔ آپ نے فرمایا : تب تو بہت اچھا ہوگا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (حبله).
(٣) تكررت في: [ك].
(٤) تكررت في: [ك].
(٥) في [س، هـ]: (أو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32305
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32305، ترقيم محمد عوامة 30929)