حدیث نمبر: 32233
٣٢٢٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن محمد قال: لا استخلف أبو بكر قعد علي في بيته، فقيل لأبي بكر، فأرسل إليه: أكرهت خلافتي قال: لا لم أكره خلافتك ولكن كان القرآن يزاد فيه فلما قبض رسول اللَّه ﷺ جعلت علي أن لا أرتدي إلا (لصلاة) (١) حتى أجمعه للناس فقال أبو بكر: نعم ما رأيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنادیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے گھر والوں میں بیٹھ گئے۔ پس حضرت ابوبکر کو یہ بتلایا گیا، تو آپ نے ان کو قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا ! کیا تم میری خلافت کو ناپسند کرتے ہو ؟ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں، میں نے آپ کی خلافت کو ناپسند نہیں کیا۔ لیکن قرآن میں زیادتی کی جا رہی تھی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی تو میں نے خود پر لازم کرلیا کہ میں چادر نہیں اوڑھوں گا مگر صرف نماز کے لیے ، یہاں تک کہ میں قرآن کو لوگوں کے لیے جمع کر دوں۔ تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : آپ کی رائے بڑی اچھی ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (إلى الصلاة)، وفي [أ، ط]: (الصلاة).
(٢) منقطع؛ محمد بن سيرين لم يدرك الواقعة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32233، ترقيم محمد عوامة 30857)