حدیث نمبر: 32225
٣٢٢٢٥ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: جمع ناس القرآن حتى بلغوا (عدة) (١)، فكتب أبو موسى إلى عمر بذلك، فكتب إليه عمر: إن بعض الناس (أروى) (٢) له من بعض، ولعل بعض من يقرأه أن يقوم المقام خير من قراءة الآخر أخر ما عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

محمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے پاس قرآن سیکھنے کے لیے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی تو انہوں نے اس بارے رائے طلب کرنے کے لئے حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ کچھ لوگ قرآن کو دوسروں سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کی قراءت کرنے والے بعض لوگ بھی دوسروں سے بہتر ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: (عدته).
(٢) في [أ، هـ]: (أدوا).
(٣) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32225، ترقيم محمد عوامة 30849)