مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
فيمن تعلم القرآن وعلمه باب: اس شخص کے بارے میں جو قرآن سیکھے اور سکھائے
٣٢٠٦٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا موسى بن علي قال: سمعت أبي يحدث عن عقبة بن عامر قال: خرج إلينا رسول اللَّه ﷺ ونحن في الصفة فقال: "أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو العقيق، فيأتي منه بناقتين كوماوين في غير إثم ولا قطيعة رحم؟ "، قلنا: (١) يا رسول اللَّه، كلنا نحب ذلك، قال: " (فلأن) (٢) يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم، أو يقرأ (آيتين) (٣) من كتاب اللَّه خير له من (ناقتين، وثلاث (خير له من ثلاث) (٤)، و) (٥) أربع خير له من أربع (ومثل) (٦) أعدادهن من الإبل" (٧).حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ہم لوگ صفہ میں تھے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ صبح سویرے بطحان یا عقیق کے مقام پر جائے اور دو اونٹنیاں اعلی رضی اللہ عنہ سے اعلی رضی اللہ عنہ بغیر کسی قسم کے گناہ اور قطع رحمی کے پکڑ لائے۔ صحابہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو تو ہم سب پسند کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسجد میں جا کردو آیتوں کا پڑھنا یا پڑھا دینا دو اونٹنیوں سے اور تین آیات کا تین اونٹنیوں سے۔ اسی طرح چار آیات کا چار اونٹنیوں سے افضل ہے۔ اور ان کے برابر اونٹوں سے افضل ہے۔