حدیث نمبر: 32039
٣٢٠٣٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١): "يمثل القرآن يوم القيامة رجلًا فيؤتى بالرجل قد حمله فخالف (٢) أمره فيتمثل خصما له فيقول: يا رب حملته إياي فشر حامل: تعدى حدودي، وضيع فرائضي، وركب معصيتي، وترك طاعتي، فما يزال يقذف عليه بالحجج حتى يقال: فشأنك به (فيأخذ بيده) (٣)، فما يرسله حتى يكبه على (صخرة) (٤) في النار، ويؤتى برجل صالح قد كان حمله وحفظ أمره فيتمثل خصما (٥) دونه فيقول: يا رب حملته إياي فخير ⦗٤٢٦⦘ حامل حفظ حدودي، وعمل بفرائضي، واجتنب معصيتي، واتبع طاعتي، فما يزال يقذف له بالحجج حتى يقال: شأنك به، (فيأخذ) (٦) بيده فما يرسله حتى يلبسه حلة الاستبرق (ويعقد) (٧) عليه تاج الملك، ويسقيه كأس الخمر" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن قرآن کو ایک آدمی کی شکل دی جائے گی پھر حامل قرآن کو لایا جائے گا۔ جس نے اس کے حکم کی مخالفت کی پھر وہ اس کے مدمقابل خصم کی شکل اختیار کرے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! آپ نے اس پر میری ذمہ داری ڈالی پس بہت بُرا ذمہ دار ہے ! اس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی۔ اور میرے فرائض کو ضائع کیا۔ اور میری نافرمانی کرتا رہا۔ اور میری اطاعت کو چھوڑ دیا، پس وہ مسلسل اس کے خلاف دلائل بیان کرے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا۔ تو نے ٹھیک بیان کیا۔ پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے گا اور اس کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اوندھے منہ جہنم میں ایک چٹان پر پھینک دے گا۔ اور ایک نیک آدمی کو لایا جائے گا جس نے اس کی ذمہ داری اٹھائی اور اس کے حکم کی حفاظت کی، پھر قرآن اس کے حق میں خصم کی شکل اختیار کرے گا ، اور کہے گا ! اے میرے رب ! تو نے اس پر میری ذمہ داری ڈالی پس بہت اچھا ذمہ دار ہے : اس نے میری حدود کی حفاظت کی اور میرے فرائض پر عمل کیا۔ اور مردی نافرمانی سے اجتناب کیا۔ اور میرے حکم کی پیروی کی، پس وہ مسلسل اس کے حق میں دلائل بیان کرتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا، تو نے ٹھیک بیان کیا۔ پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے گا۔ پھر اس کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اس کو نفیس قسم کا جوڑا پہنائے گا۔ اور اس کے سر پر بادشاہ کا تاج رکھے گا۔ او اسے شراب کا پیالہ پلائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٢) زاد في [أ، ب، ط]: (في).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) في [هـ]: (منخره).
(٥) في [أ، س، ط، هـ]: زيادة (له).
(٦) كذا في: [جـ، ك]، وفي باقي النسخ: (فيأخذه).
(٧) في [ك]: (ويقعد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب وابن إسحاق صدوقان، وقد صرح ابن إسحاق بالسماع عند البخاري في خلق أفعال العباد ص ٧٤، وأخرجه ابن قتيبة في تأويل مختلف الحديث (٢٥٨)، والخطيب في اقتضاء العلم العمل (١١٢)، وأبو يعلى في المسند الكبير كما في المطالب (٣٤٩١)، والبزار كما في كشف الأستار (٢٣٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32039، ترقيم محمد عوامة 30667)