حدیث نمبر: 32035
٣٢٠٣٥ - حدثنا جرير عن منصور عن الحكم قال: كان مجاهد وعبدة بن أبي لبابة وناس يعرضون المصاحف فلما كان اليوم الذي أرادوا أن يختموا أرسلوا إليَّ وإلى سلمة بن كهيل، فقالوا: إنا كنا نعرض المصاحف فأردنا أن نختم اليوم فأحببنا أن تشهدونا إنه كان يقال: إذا ختم القرآن نزلت الرحمة عند خاتمته، أو حضرت الرحمة عند خاتمته.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور حضرت عبدہ بن ابو لبابہ اور لوگ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ پس جس دن وہ لوگ قرآن کو مکمل کرنے کا ارادہ کرتے تو میری طرف اور حضرت سلمہ بن کھیل کی طرف قاصد بھیج کر ہمیں بلاتے، اور فرماتے ! ہم نے قرآن پڑھے ہیں پس ہمارا آج ختم کرنے کا ارادہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی ہمارے پاس حاضر ہوں۔ اس لیے کہ کہا جاتا ہے۔ جب قرآن ختم کیا جاتا ہے تو اس کے ختم ہونے کے وقت رحمت اترتی ہے، یا فرمایا؛ اس کے ختم ہونے کے وقت رحمت حاضر ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32035
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32035، ترقيم محمد عوامة 30663)