حدیث نمبر: 32008
٣٢٠٠٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن مخراق عن أبي إياس عن أبي كنانة عن أبي موسى أنه قال: إن هذا القرآن كائن لكم (ذكرًا) (١)، (و) (٢) كائن لكم أجرًا (أو) (٣) كائن عليكم وزرًا، فاتبعوا القرآن ولا يتبعكم القرآن فإنه من يتبع القرآن يهبط به على رياض الجنة، ومن يتبعه القرآن (يزخ) (٤) في قفاه فيقذفه في جهنم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کنانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ قرآن تمہارے لیے نصیحت ہے یا تمہارے لیے باعث اجر ہے یا تم پر بوجھ ہے، پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن تمہارے پیچھے نہ لگے۔ اس لیے کہ جو قرآن کی پیروی کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے جنت کے باغات میں داخل ہوجاتا ہے، اور جس شخص کے پیچھے قرآن لگتا ہے ۔ تو وہ اسے گردن کے پچھلے حصہ سے دھکیلتا ہے اور اس کو جہنم میں پھینک دیتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (ذكرى).
(٢) في [جـ]: (أو).
(٣) في [ط، ك]: (و).
(٤) أي: يدفع، وفي [ط]: (يروح)، وفي [جـ]: (يزج).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي كنانة، أخرجه الدارمي (٣٣٢٨)، وسعيد بن منصور ٢/ (٨)، والخطيب ١٣/ ٨٥.