حدیث نمبر: 31978
٣١٩٧٨ - حدثنا وكيع عن مسعر (عن) (١) قتادة عن ابن عباس قال: ما كنت أدري ما قوله: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ [الأعراف: ٨٩]، حتى سمعت بنت ذي يزن تقول: (تعال) (٢) أفاتحك (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے قرآن مجید کی اس آیت { رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ } کے صحیح معنی کا اس وقت تک علم نہ تھا، جب تک میں میں نے بنت ذی یزن کا یہ قول نہیں سنا۔ تعال افا تحک۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (جئ)، وفي [ك]: (تعلى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير ٩/ ٢، وابن أبي حاتم (٨٧٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31978، ترقيم محمد عوامة 30606)