حدیث نمبر: 31848
٣١٨٤٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عن عائشة قالت: كنت إلى جنب النبي ﷺ ففقدته (فابتغيته) (١) فإذا هو بالبقيع رافعًا يديه يدعو فقال: "يا ابنة أبي بكر (أخشيت) (٢) أن (اللَّه يحيف) (٣) عليك ورسوله، إن اللَّه ينزل في هذه الليلة (ليلة) (٤) النصف من شعبان فيغفر فيها من الذنوب أكثر من عدد شعر معز كلب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھی پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے لگی اچانک میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے دعا فرما رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ پر ظلم کریں گے ؟ بیشک اللہ شعبان کی اس پندرہویں رات میں آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور اس میں گناہوں کو معاف فرماتے ہیں قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (فاتبعته).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (أحسبت).
(٣) في [جـ، ك]: (يحيف اللَّه).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٦٠١٨)، والترمذي (٧٣٩)، وابن ماجه (١٣٨٩)، وعبد ابن حميد (١٥٠٩)، والدارقطني في النزول (٨٩)، واللالكائي (٧٦٤)، والبغوي (٩٩٢)، والبيهقي في شعب الإيمان (٣٨٢٦)، وإسحاق (٨٥٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31848
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31848، ترقيم محمد عوامة 30478)