مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما قالوا: في ليلة النصف من شعبان وما يغفر فيها من الذنوب باب: جن لوگوں نے شعبان کی پندرہویں رات کے بارے میں کہا کہ اس میں تمام گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے
٣١٨٤٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عن عائشة قالت: كنت إلى جنب النبي ﷺ ففقدته (فابتغيته) (١) فإذا هو بالبقيع رافعًا يديه يدعو فقال: "يا ابنة أبي بكر (أخشيت) (٢) أن (اللَّه يحيف) (٣) عليك ورسوله، إن اللَّه ينزل في هذه الليلة (ليلة) (٤) النصف من شعبان فيغفر فيها من الذنوب أكثر من عدد شعر معز كلب" (٥).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھی پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے لگی اچانک میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے دعا فرما رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ پر ظلم کریں گے ؟ بیشک اللہ شعبان کی اس پندرہویں رات میں آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور اس میں گناہوں کو معاف فرماتے ہیں قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کے۔