مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعى به للميت بعد ما يدفن باب: میت کو دفنانے کے بعد اس کے لیے یوں دعا کی جائے
حدیث نمبر: 31842
٣١٨٤٢ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حجاج عن عمير بن سعيد أن عليًا كبر على يزيد بن المكفف أربعًا ثم قام على القبر فقال: اللهم عبدك وابن عبدك (٢) نزل ⦗٣٦٧⦘ بك اليوم وأنت خير منزول به، اللهم وسع له (مدخله) (٣) واغفر له ذنبه، فإنا لا نعلم إلا خيرًا وأنت أعلم به (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یزید بن مکفف کے جنازہ پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے۔ آج یہ تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے۔ اے اللہ ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دے۔ پس بیشک ہم نہیں جانتے مگر بھلائی اور تو اس بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (عوام).
(٢) في [ب، ط، هـ]: زيادة (و).
(٣) في [ك]: (مداخلة).
(٤) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.