مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
في السقط والمولود وما يدعى لها به باب: ساقط شدہ حمل اور نومولود بچہ کے لیے یوں دعا مانگی
حدیث نمبر: 31827
٣١٨٢٧ - حدثنا (غندر) (١) عن شعبة قال: حدثنا (الجلاس) (٢) السلمي قال: سمعت علي بن (جحاش) (٣) قال: سمعت سمرة بن جندب ومات ابن له صغير فقال: اذهبوا فادفنوه، ولا تصلوا عليه فإنه ليس عليه إثم، وادعوا اللَّه لوالديه أن يجعله لهما فرطا وأجرا أو نحوه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن جحاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سمرہ بن جندب کو یوں فرماتے ہوئے سنا جبکہ میں کہ ان کا ایک چھوٹا بچہ مرگیا تھا پس آپ نے فرمایا : تم اس کو لے جا کر دفن کردو۔ اور اس کی نماز جنازہ مت کرو۔ کیونکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اللہ سے اس کے والدین کے حق میں دعا کرو کہ وہ اس بچہ کو ان دونوں کے حق میں آگے سامان کرنے والا اور اجر کا موجب اور وقت پر کام آنے والا بنا دے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (جرير).
(٢) هكذا رواية شعبة وقال غيره: (أبو الجلاس)، وفي [هـ]: (الخلاس) واسمه: (عقبة بن سيار).
(٣) في [ط]: (حجاس)، وتقدم في الجنائز (عثمان بن جحاش)، وقد وقع اضطراب كثير في اسمه، انظر: العلل للدارقطني ١١/ ١٤١،
(٤) مجهول؛ لجهالة علي بن جحاش، أخرجه الحارث (٢٧٧/ بغية)، والطحاوي ١/ ٥٠٧.