حدیث نمبر: 31788
٣١٧٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مطرف عن المنهال بن عمرو عن محمد بن علي (١) قال: بينما رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب فتناولها رسول اللَّه ﷺ بنعله فقتلها، فلما انصرف قال: "أخزى اللَّه العقرب، ما تدع مصليا ولا غيره (ولا) (٢) مؤمنا ولا غيره (٣) "، ثم دعا بملح وماء فجعله في إناء وجعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اس درمیان جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈس لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتی پکڑی اور اس کو مار دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : اللہ بچھو کو رسوا کرے ! یہ کسی نمازی کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا یا یوں فرمایا : کہ کسی مومن کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا پھر نمک کو برتن میں ڈال دیا۔ اور اپنی انگلی سے ڈسنے والی جگہ لگاتے اور ملتے جاتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معوذتین کے ذریعہ اس پر دم فرمایا۔

حواشی
(١) زاد في [هـ]: (عن علي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (أو).
(٣) زاد في [هـ]: (إلا لدغته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31788
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن علي تابعي، وأخرجه متصلًا من حديث علي الطبراني في الأوسط (٥٨٩٠) والصغير (٨٣٠)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ١٩٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٥٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31788، ترقيم محمد عوامة 30420)