مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يؤمر الرجل أن يدعو فلا يضره لسعة (عقرب) باب: آدمی کو یوں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس اس طرح بچھو کا ڈسنا اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا
٣١٧٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مطرف عن المنهال بن عمرو عن محمد بن علي (١) قال: بينما رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب فتناولها رسول اللَّه ﷺ بنعله فقتلها، فلما انصرف قال: "أخزى اللَّه العقرب، ما تدع مصليا ولا غيره (ولا) (٢) مؤمنا ولا غيره (٣) "، ثم دعا بملح وماء فجعله في إناء وجعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين (٤).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اس درمیان جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈس لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتی پکڑی اور اس کو مار دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : اللہ بچھو کو رسوا کرے ! یہ کسی نمازی کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا یا یوں فرمایا : کہ کسی مومن کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا پھر نمک کو برتن میں ڈال دیا۔ اور اپنی انگلی سے ڈسنے والی جگہ لگاتے اور ملتے جاتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معوذتین کے ذریعہ اس پر دم فرمایا۔