حدیث نمبر: 31763
٣١٧٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن (الجلاس) (١) عن عثمان بن (شماس) (٢) قال: كنا عند أبي هريرة فمر به مروان فقال: بعض حديثك عن رسول اللَّه ﷺ، ثم مضى ثم رجع (فقلنا) (٣) الآن يقع به، فقال: كيف (سمعت) (٤) رسول اللَّه ﷺ يصلي على الجنازة؟ قال: سمعته يقول (٥): "أنت (هديتها) (٦) للإسلام وأنت قبضت روحها، تعلم سرها وعلانيتها، (جئنا) (٧) شفعاء فاغفر لها" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عثمان بن شماس فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ کے پاس تھے۔ کہ مروان کا ان کے پاس سے گزر ہوا۔ تو وہ آپ سے کہنے لگا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، پھر وہ چلا گیا ، پھر تھوڑی دیر بعد لوٹا، توہم نے کہا : اب یہ ان کے ساتھ بیٹھ جائے گا، پس وہ کہنے لگا، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ پر کیا دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : تو نے ہی اس کو اسلام کی ہدایت دی اور تو نے ہی اس کی روح کو قبض کیا۔ تو ہی اس کی پوشیدہ باتوں کو اور کھلی ہوئی باتوں کو جانتا ہے، ہم تو تیرے پاس اس کی شفاعت کرنے والے بن کر آئے ہیں ، پس تو اس کی مغفرت فرما دے۔

حواشی
(١) هكذا قال شعبة وقال غيره: (عن أبي الجلاس).
(٢) هكذا قال شعبة وقال غيره: (علي بن شماخ).
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، ط].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) زاد في [هـ]: (في الصلاة على الجنازة اللهم).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط]: (هديتنا).
(٧) في [هـ]: (جئناك)، وهو الموافق لما سبق في كتاب الجنائز ٣/ ٢٩٢ [١١٦٩٤].
(٨) مجهول؛ لجهالة عثمان بن شماس، أخرجه أحمد (٧٤٧٧)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٧٦)، والطبراني في الدعاء (١١٨٤)، وعبد بن حميد (١١٤٥٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٢٤، والبيهقي ٤/ ٤٢، والمزي ٥/ ١٨٠، كما أخرجه أبو داود (٣٢٠٠)، والدولابي ١/ ١٣٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31763
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31763، ترقيم محمد عوامة 30397)