حدیث نمبر: 31716
٣١٧١٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أسيد (قال) (١): تزوجت وأنا مملوك فدعوت نفرًا من أصحاب النبي ﷺ منهم (ابن مسعود) (٢) وأبو ذر وحذيفة (يعلمونني) (٣) فقال: إذا دخل عليك أهلك فصل ركعتين ثم سل اللَّه من خير ما دخل عليك، ثم تعوذ به من شره، ثم (شأنك) (٤) وشأن أهلك (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید جو کہ ابو اسید کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں : میں نے شادی کی اس حال میں کہ میں غلام تھا۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک جماعت کو دعوت دی جن میں حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے مجھے آداب سکھائے پس کہنے لگے : جب تیرے گھر والے تیرے پاس حاضر ہوں پس تو دو رکعت نماز پڑھ۔ اور اللہ سے خیر مانگ ان کے تیرے پاس آنے کی۔ پھر ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ۔ پھر تو جانے اور تیرے گھر والے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، جـ، ط، ك]: (أبو مسعود).
(٣) في [ك]: (يعلموني).
(٤) في [هـ]: (شأن).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي سعيد مولى أبي أسيد، أخرجه عبد الرزاق (٣٨٢٢)، وابن حبان في الثقات ٥/ ٥٨٨، وصالح بن أحمد في مسائله ٢/ ٣٠٤، والبيهقي ٣/ ١٢٦، وابن حزم في المحلى ٤/ ٢١١، ومحمد بن عبد اللَّه الأنصاري في حديثه (١٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31716
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31716، ترقيم محمد عوامة 30352)