مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
في الرجل يركب الدابة والبعير ما يدعو به؟ باب: اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
٣١٧٠٧ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن أبي هاشم عن أبي مجلز أن حسين بن علي رأى رجلا ركب دابة فقال: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا ⦗٣٢١⦘ كنا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ (قال) (١): أفبهذا أمرت، قال: كيف أقول؟ قال: (قل) (٢): الحمد للَّه الذي هداني للإسلام، الحمد للَّه الذي مَنّ علي بمحمد ﷺ، الحمد للَّه الذي جعلني في خير أمة أخرجت للناس ثم تقول: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا (هَذَا) (٣)﴾ (٤).حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو سواری پر سوار ہوا پھر اس نے یہ دعا پڑھی ! اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے تابع کیا اور ہم اسے قبضہ کرنے والے نہ تھے۔ تو آپ نے فرمایا : تمہیں کیا اس طرح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ اس نے کہا : میں کیسے پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : اس طرح کہو : سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت بخشی۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے بنایا مجھے بہترین امت میں جسے لوگوں کی نفع رسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، پھر یہ دعا پڑھو۔ اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا۔