حدیث نمبر: 31702
٣١٧٠٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عمر بن كثير بن أفلح عن ابن عمر في الضالة يتوضأ ويصلي ركعتين ويتشهد (ويقول) (١): يا هادي الضال وراد الضالة: أردد علي ضالتي بعزتك وسلطانك، فإنها من عطائك وفضلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن کثیر بن افلح فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما گمشدہ چیز کے بارے میں فرماتے تھے : وضو کرے اور دو رکعت نماز نفل پڑھے، اور کلمہ شہادت اور یہ کلمات پڑھے : اللہ کے نام کے ساتھ بھٹکنے والوں کو راستہ دکھانے والے۔ اور گمشدہ کو لوٹانے والے۔ میری گمشدہ چیز اپنی عزت اور بادشاہت کے وسیلہ سے مجھے واپس لوٹا دے۔ کیونکہ وہ تیرے فضل اور عطا ہی سے ملی تھی۔

حواشی
(١) في [طـ]: (ويعقل)، وفي [ز]: زيادة (بسم اللَّه).
(٢) موقوف حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه البيهقي في الدعوات (٤٨٧)، وورد مرفوعًا، أخرجه الطبراني (١٣٢٨٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31702
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31702، ترقيم محمد عوامة 30338)