٣١٧٠١ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء (عن) (١) عبيد بن عمير قال: سمعت عمر يقنت في الفجر: اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك ونتوكل عليك ونثني عليك الخير ولا نكفرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، (٢) نرجو رحمتك ونخشى عذابك، إن عذابك بالكافرين ⦗٣١٩⦘ ملحق، اللهم عذب كفرة أهل الكتاب الذين يصدون عن سبيلك (٣).حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو فجر کی نماز میں یوں قنوت نازلہ پڑھتے ہوئے سنا : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں ، اور ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ہم تجھ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم ترای ناشکری نہیں کرتے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ اور تیرے لیے ہی ہم نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور تیری ہی طرف دوڑتے ہیں اور خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ بیشک تیرے عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ ! کافر اہل کتاب کو عذاب دے ۔ جو روکتے ہیں تیرے راستہ سے۔