حدیث نمبر: 31688
٣١٦٨٨ - حدثنا وكيع عن هارون بن (١) إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن ابن عباس أنه كان يقول في قنوت الوتر: لك الحمد (ملء) (٢) السماوات السبع وملأ (الأرضين) (٣) السبع وما بينهما من شيء بعد، أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد، كلنا لك عبد، لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے : تیری تعریف ہے ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر کر ، اور جو چیز اس کے بعد ہے اس کی مقدار بھر کر تیری تعریف، بڑائی اور شرف والا ہے تو۔ اور جو جو بندوں نے کیا۔ اور سب تیرے ہی بندے ہیں۔ ان میں سب سے درست بات یہ ہے کہ جو نعمت تو بخش دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اس کا دینے والا کوئی نہیں ۔ اور تیرے سامنے کسی مرتبہ والے کا مرتبہ کچھ کام نہیں دیتا۔

حواشی
(١) زيادة في [جـ، ك]: (أبي).
(٢) في [أ، هـ]: (ملأ).
(٣) في [هـ]: (الأرض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31688
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31688، ترقيم محمد عوامة 30325)