حدیث نمبر: 31687
٣١٦٨٧ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن منصور عن شيخ يكنى أبا محمد أن الحسين بن علي كان يقول في قنوت الوتر: اللهم إنك ترى ولا (تُرى) (١)، وأنت ⦗٣١٤⦘ بالمنظر الأعلى، وإن إليك (الرجعى) (٢)، وإن لك الآخرة والأولى، اللهم إنا نعوذ بك من أن (نذل) (٣) ونخزى (٤).مولانا محمد اویس سرور
ایک شیخ جن کی کنیت ابو محمد ہے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ قنوت وتر میں یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! یقینا تو دیکھتا ہے اور خود دکھائی نہیں دیتا اور تو بلند رتبہ اور منظر والا ہے۔ اور یقینا تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔ اور تیرے لیے ہی آخرت اور پہلے کی زندگی ہے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ذلیل اور رسوا ہونے سے ۔
حواشی
(١) في [جـ]: (نرى).
(٢) في [ب]: (إرجعي).
(٣) في [طـ]: (نزل).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي محمد.