حدیث نمبر: 31686
٣١٦٨٦ - حدثنا شريك (بن) (١) عبد اللَّه عن أبي إسحاق عن (بريد) (٢) بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال: علمني (جدي) (٣) كلمات أقولهن في قنوت الوتر: "اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، (و) (٤) قني شر ما قضيت، وبارك لي فيما أعطيت، إنك تقضي ولا يقضى عليك، فإنه لا يذل من واليت (٥)، تباركت وتعاليت" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے نانا نے مجھے کچھ کلمات سکھائے ہیں جن کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں ! اے اللہ ! جن لوگوں کو تو نے راہ راست پر لگا یا ہے ان کے ساتھ تو مجھے بھی راہ راست پر لگا دے۔ اور جن کو تو نے عافیت نصیب فرمائی ان لوگوں کے ساتھ مجھے بھی عافیت نصیب فرما دے اور جن کا تو کار ساز بنا ان کے ساتھ میرا بھی کارساز بن جا۔ اور جو فیصلہ تو فرما چکا اس کے شر سے مجھے بچا لے۔ اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے تو اس میں برکت عطا فرما۔ کیونکہ تو ہی فیصلہ فرماتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔ پس یقینا جس کا تو کارساز ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا ، تو برکت والا اور بلندو برتر ہے۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ط]: (يزيد).
(٣) في [ط]: (جدية).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [هـ]: زيادة (سبحانك ربنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٧١٨)، وأبو داود (١٤٢٥)، والترمذي (٤٦٤)، وابن ماجه (١١٧٨)، والنسائي ٣/ ٢٤٨، وابن خزيمة (١٠٩٥)، وابن حبان (٧٢٢)، والحاكم ٣/ ١٧٢، وعبد الرزاق (٤٩٨٥)، والطيالسي (١١٧٩)، وأبو يعلى (٦٧٦٥)، والدارمي (١٥٩٢)، وابن أبي عاصم في السنة (٣٧٤)، وابن الجارود (٢٧٣)، والطبراني (٢٧٠١)، والبيهقي ٢/ ٢٠٩، والبغوي (٦٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31686، ترقيم محمد عوامة 30323)