حدیث نمبر: 31645
٣١٦٤٥ - (١) حدثنا علي بن (هاشم) (٢) عن ابن أبي ليلى عن صدقة عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إن المصلي (إذا صلى) (٣) (يناجي) (٤) ربه فليعلم (أحدكم) (٥) بما يناجيه ولا يجهر بعضكم على بعض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ پس چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک جان لے کہ وہ اس ذات سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔ اور تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر آواز بلند نہ کریں۔

حواشی
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [هـ]: (حاكم).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) في [ب]: (فناجي)، وفي [طـ]: (فياجي).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٥٣٤٩)، وابن خزيمة (٢٢٣٧)، والبزار (٧٢٦/ كشف)، والطبراني (١٣٥٧٢)، والسهمي في تاريخ جرجان ص ١١٥ و ٣٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31645، ترقيم محمد عوامة 30282)