حدیث نمبر: 31644
٣١٦٤٤ - حدثنا ابن فضيل وأبو (معاوية) (١) عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي موسى قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر فجعل الناس يجهرون بالتكبير فقال النبي ﷺ: "أرْبَعُوا على أنفسكم فإنكم (لا) (٢) تدعون أصم ولا غائبًا، إنكم تدعونه (سميعًا) (٣) قريبًا وهو معكم" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس لوگ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ تم لوگ کسی بہرے کو اور نہ ہی غیر موجود کو پکار رہے ہو۔ بلکہ تم لوگ ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے اور وہ ذات تمہارے ساتھ ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (مغضبة)، وتقدم ٢/ ٤٨٨.
(٢) في [ك]: (ليس).
(٣) في [جـ]: (جميعًا).