حدیث نمبر: 31637
٣١٦٣٧ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال (عن) (١) أبي شعبة قال: كنت بجنب ابن عمر بعرفة وإن ركبتي لتمس ركبته، أو (فخذي) (٢) (يمس) (٣) فخذه، فما سمعته يزيد على هؤلاء الكلمات: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، حتى أفاض من عرفة إلى جمع (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ میں میدان عرفات میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا۔ اور میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے چھو رہا تھا، یا میری ران ان کی ران سے چھو رہی تھی، پس میں نے نہیں سنا کہ انہوں نے ان کلمات پر کچھ زیادتی کی ہو ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہاں تک کہ وہ میدان عرفات سے منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (بن).
(٢) في [س، ط، هـ]: (فخذه).
(٣) في [ط]: (يمسى).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي شعبة الأشجعي البصري.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31637
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31637، ترقيم محمد عوامة 30274)