حدیث نمبر: 31635
٣١٦٣٥ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكثر دعائي ودعاء الأنبياء قبلي بعرفة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم اجعل في قلبي نورًا وفي سمعي نورًا وفي بصري نورًا، اللهم اشرح لي صدري وشر لي أمري، وأعوذ بك من (وسواس) (١) الصدر وشتات الأمر وفتنة القبر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما يلج في الليل ومن شر ما يلج في النهار ومن شر ما تهب به الرياح (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء کی عرفہ کے مقام پر زیادہ مانگی جانے والی دعا یہ ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! تو میرے دل میں نور کو ڈال دے۔ اور میرے کانوں میں بھی نور کو ڈال دے، اور میری آنکھوں میں بھی نور ڈال دے، اے اللہ ! میرے لیے میرے سینہ کو کھول دے، اور میرے لیے میرے معاملہ کو آسان فرما، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں سہنش کے وساوس سے، اور معاملہ کے بگڑنے سے اور قبر کے فتنہ سے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو رات میں داخل ہوتی ہے اور ہر چیز کے شر سے جو دن میں داخل ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جس کو ہوائیں چلاتی ہیں۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (وساوس).
(٢) في [هـ]: زيادة (ومن شر بوائق الدهر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31635
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ موسى ضعيف، وأخوه لم يدرك عليًّا، أخرجه البيهقي ٥/ ١١٧، وإسحاق كما في المطالب (١٢٣٩)، وابن عبد البر ٦/ ٤٠، وبنحوه أخرجه الترمذي (٣٥٢٠)، وابن خزيمة (٢٨٤١)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31635، ترقيم محمد عوامة 30272)