حدیث نمبر: 31601
٣١٦٠١ - حدثنا عفان بن مسلم حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا أبو التياح قال: سأل رجل (عبد اللَّه) (١) بن (خنبش) (٢) كيف صنع رسول اللَّه ﷺ حين كادته ⦗٢٩١⦘ الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول اللَّه ﷺ من الأودية وتحدرت عليه من الجبال، وفيهم شيطان معه شعلة نار يريد أن يحرق بها رسول اللَّه ﷺ فأرعب منهم قال: جعفر أحسبه قال: جعل يتأخر، قال: وجاءه جبريل فقال: يا محمد قل: قال: "ما أقول؟ " قال: "قل أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (٣) قال: وهزمهم اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو التیاح فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے سوا ل کیا : جب شیاطین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ کچھ شیاطین وادیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اور پہاڑ سے اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، اس حال میں کہ ان میں ایک شیطان تھا جس کے پاس ایک انگارہ تھا، اس کا ارادہ تھا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا دے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کا رعب طاری ہوگیا، حضرت جعفر فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹنے لگے۔ راوی فرماتے ہیں : کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائلب حاضر ہوئے۔ اور فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پڑھیے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : میں کیا پڑھوں ؟ حضرت جبرائیل نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھیے ! میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ، جس کو وجود بخشا اور جسے پیدا کیا اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو نمودار ہونے والی چیز کے شر سے مگر جو رات کو خیر لائے، اے رحمن ! راوی کہتے ہیں پس شیاطین کی آگ کو بجھا دیا گیا، کہتے ہیں پس اللہ نے ان شیاطین کو شکست دی۔

حواشی
(١) هكذا رواية عفان كما في المسند وغيره، وفي [هـ]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ب، ط]: (عبيس)، وفي [جـ، ك]: (عنبس)
(٣) في [هـ]: (الشيطان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31601، ترقيم محمد عوامة 30238)