حدیث نمبر: 31589
٣١٥٨٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يقولون في السفر: اللهم بلاغا يبلغ خير مغفرتك منك ورضوانا، (و) (١) بيدك الخير، إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة على الأهل، (اللهم) (٢) اطو لنا الأرض وهون علينا السفر، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر، وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ سفر میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! خیر کو پہنچا ایسی خیر جس میں تیری طرف سے مغفرت ہو اور تیری رضا ہو، خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے، یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے۔ اور گھر والوں پر ہمارا خلیفہ ہے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کی دوری کو ختم فرما، اور ہم پر سفر کو آسان فرما، اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے، اور غمگین لوٹنے سے اور گھر اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31589
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31589، ترقيم محمد عوامة 30226)